یقین کا کھیل
یقین کا کھیل
تحریر: Adv Misbah Akram Rana
مارچ میں میری ملاقات ایک سے بڑھ کر ایک خاتون سے ہو رہی ہے۔ آج میری ملاقات ایسی عورتوں سے ہوئی ہے جو انسان بن کر جیتی ہیں، جن کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں اور جنہیں کبھی ان کے عورت ہونے نے خواب پورے کرنے سے روکا نہیں۔ ہاں انسان اپنا رستہ، اپنی خواہش، اپنا مقصد سب سے پہلے اپنے آپ کی وجہ سے بدلتا ہے، توڑتا ہے چھوڑتا ہے۔ جو انسان خود کو مطمئن کر لے، وہ پھر اپنے رستے پہ بھی ثابت قدمی سے چلتا ہے، وہ اپنی خواہش بھی پوری کرتا ہے اور وہ اپنا مقصد بھی پالیتا ہے۔ اسے یقین کہتے ہیں۔ یعنی ایک خواہش ہوئی، من ہی من میں اپنی صلاحیتوں کو ٹٹولا، دل جگرے کا حساب لگایا، خود کو مطمئین کیا اور پھر چل پڑے اپنے رستے پہ اور منزل پا لی۔
یہ کہنے میں جتنا آسان لگ رہا ہے، عملی زندگی میں کرنا اتنا ہی کٹھن ہے۔ مگر بہادروں اور یقین والوں کا وطیرہ ہے کہ وہ نہ تو گھبراتے، نہ ہمت ہارتے اور نہ ہی مشکلات کا سامنا کرنے سے ڈرتے۔ وہ بس کمر کستے ہیں اور اپنی منزل کی جانب رواں ہو جاتے ہیں کہ منزل مل جائے گی، انہیں منزل مل بھی جاتی ہے۔ رستے میں مشکلات بہت آتی ہیں، مگر یہ چلنا نہیں چھوڑتے، نہ ہی یہ خود کو دوسرے تیسرے کی نظر سے دیکھتے، یہ خود کو اپنے یقین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بڑھتے جاتے ہیں۔
اسی یقین اور بہادری کے ساتھ سلطانہ شمشال نے سخت طوفانوں کو پچھاڑتے ہوئے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-2 سر کی اور اسی یقین اور حوصلے کے ساتھ عمارہ شریف نے موٹر بائیک پہ پاکستان کے کونے کونے پہ سفر کیا۔ حالانکہ یہ دونوں کام بہت مشکل ہیں، مگر ان دونوں کو یقین تھا اور ہے کہ یہ وہ سب کر سکتی ہیں جو ایک انسان کر سکتا ہے، لہذا یہ کر گئیں اور اب بھی اسی جوش و ولولے کے ساتھ اپنے سفر کو جاری و ساری کیے ہوئے ہیں۔
سوچئیے ہم تو اسلام آباد کی سردی بھی برداشت نہیں کر پاتے تو سلطانہ نے ٹھنڈے یخ موسموں میں، شدید برفانی طوفانوں میں، دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کیسے سر کی ہو گی، جبکہ وہ پانچ ماہ کی بچی سے حاملہ بھی تھی۔ اس نے پھر بھی کے ٹو سر کر لیا اور پاکستان کی تیسری خاتون جنہوں نے کے ٹو سر کیا، کے طور پہ اپنا نام تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھوا لیا۔
دوسری طرف موٹر سائیکل چلانا اور ملک گیر سفر کرنا بہت بڑے دل جگرے کا کام ہے۔ عمارہ ایک پروفیشنل بائیکر ہے، وکیل بھی ہے۔ یہ موٹر سائیکل پہ پاکستان کا چپہ چپہ چھان چکی ہیں۔ انشاء اللہ مستقبل میں انٹرنیشنل ٹورز بھی کریں گی۔ یہ تب سے موٹرسائیکل چلا رہی ہیں جبکہ پاکستان میں اس کا تصور ہی نہیں تھا۔ ہم تو اس معاشرے میں رہتے ہیں کہ جہاں چند سال قبل تک معاشرہ عورتوں کے گاڑی چلانے کو بھی معیوب سمجھتا تھا، یہ تب سے بائیک چلا رہی ہیں اور خوب دھڑلے سے چلا رہی ہیں۔
یہ وہ عورتیں ہیں جو سب سے پہلے تو خود پہ یقین رکھتی ہیں، پھر اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے خود کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں اس کے بعد تسلسل سے اپنے رستے پہ چلتی چلی جاتی ہیں، کہ ایک دن انہیں اپنی منزل مل جاتی ہے۔
یہ جذبہ عام لوگوں میں نہیں پایا جاتا، تبھی وہ عام رہ جاتے ہیں۔ وہ خود کو ہی مطمئن نہیں کر پاتے کہ وہ ایک کام کرنا چاہتے ہیں تو کیوں کرے؟ پھر کون کون ساتھ دے گا اور کون ان سے اختلاف کرے گا۔ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تو کیا یہ خود ہی اکیلے کرنا ہو گا؟ جو ان سوالوں کے جواب پا کر مطمئن ہو جاتے ہیں، عملی قدم اٹھا لیتے ہیں تو وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ سلطانہ شمشال نے کے ٹو سر کر لیا جبکہ عمارہ شریف نے بائیک پہ بیٹھ کر پاکستان کے بہت سے علاقوں کا سفر طے کر لیا۔
سمجھنے کی بات ہے میاں کہ سارا کھیل ہی یقین کا ہے۔ تم جو چاہو گے کر لو گے۔ خوش رہو اور خود پہ یقین بحال کرو۔