نسوانیت کا عالمی دن
نسوانیت کا عالمی دن
تحریر: Adv Misbah Akram Rana
اب تک دنیا والے خواتین کا عالمی دن مناتے آئے ہیں، وہ دن دور نہیں جب مردوں کا بھی عالمی دن منایا جائے گا۔ اب کوئی کہے گا کہ مردوں کا عالمی دن کیوں؟ ویسے میری دانست میں تو کب کا منایا جانا چاہئیے، کیونکہ مرد کو اللہ نے جو مقام و مرتبہ جس وجہ سے عطا کیا ہے، اور مرد کو جن اوصاف کی بناء پہ مرد کہا جاتا ہے، وہ بہت ہی کم دوسری جنس میں پائے جاتے ہیں۔ لہذا یہ دن اس وجہ سے منایا جانا چاہئیے تھا کہ انہیں باور کروایا جائے کہ مرد ہونا دراصل کیا ہے۔ اب تک زیادہ تر مائیں یہ بات سمجھانے اور سکھانے میں ناکام ہی رہی ہیں۔ خیر آئندہ کے لیے مردوں کا عالمی دن اس لیے منایا جانا ضروری ہو جائے گا کہ جنریشن زی اور ایلفا کے لڑکے بھی اب لڑکے نہیں رہے۔ صرف میلنئیل میں ہی لڑکے بچے ہیں۔ اب جو نسل آ رہی ہے ان میں اتنی نزاکت ہے کہ چند برسوں میں لڑکیاں انہیں ہراساں کرنے لگیں گی۔ کیونکہ سرخی پوڈر، سن بلاک، سن گلاسز، لپ بام اور پتہ نہیں کیا کیا لیپا پوتی کیے بنا یہ گھر سے قدم نہیں نکالتے۔
میرا پہلا تجربہ ایسے لڑکوں سے نمل یونیورسٹی میں ہوا تھا، وہاں ایک ایونٹ میں گئی تھی، سال 2017 تھا، ہم آخری سمیسٹر میں تھے اور پہلی بار آوارہ گرد ہوئے تھے۔ خیر وہاں ایک عجیب سا ماحول تھا، ہر لڑکے نے سن بلاک لگا رکھا تھا، ہر لڑکے نے چشمہ لگا رکھا تھا، ہر لڑکے نے کچھ نہ کچھ زیورات پہن رکھے تھے۔ جنہیں دیکھ کر مجھے اور میری سہیلیوں کو کلچرل شاک لگا۔ ایک طرف ہماری اسلامی یونیورسٹی کے ملاں، جو سال دو سال میں اولڈ کیمپس کی کسی کانفرنس پہ دکھائی دیتے، یا ہم خود سٹوڈنٹ یونین والے تھے تو جامعہ سے باہر کسی ایونٹ پہ سلام دعا ہوتی۔ خیر تب سے میں سب کی بہن ہوں۔ خیر ہم نے اپنے اساتذہ کو دیکھا تھا کہ وہ شلوار قمیض اور واسکوٹ پہنا کرتے تھے، ایک بہت ہی شاندار سا لباس ہوا کرتا تھا، اور ہمیں بس مردوں کو اسی لباس میں دیکھنے کی عادت تھی۔
بچپن میں جب ائیر بیسز پہ تھے، تو ٹین ایج بوائز کے جو فیشن اس وقت تھے، وہ سکول کالج تک سب کرتے تھے، ہم بھی کرتے تھے اور بس ٹھیک تھا۔ لیکن تب بھی لڑکے اتنی سکن کئیر فالو نہیں کرتے تھے۔ پھر ہم دیکھا کرتے تھے کہ فضائیہ انٹر کالج اور بحریہ کالج کے لڑکوں کے اکثر پھڈے ہوتے تھے۔ ہر جمعہ کالج کے گیٹ پہ لڑکوں کے دو گروپ آپس میں ڈبلیو ڈبلیو ای کھیلتے۔ آج کل کے لڑکے تو لڑائی بھی نہیں کرتے۔ پہلے مشہور ہونے کے لیے لڑکے بدمعاشی کرتے تھے، اب ٹک ٹاکر بنتے ہیں۔ پہلے لڑکے، لڑکیوں کو پرنسس ٹریٹمنٹ دیتے تھے، اب میں لڑکوں کو پرنسس ٹریٹمنٹ وصول کرتے دیکھتی ہوں۔ پھر جنہیں لڑکیوں سے پرنسس ٹریٹمنٹ نہیں ملتا تو وہ آپس میں ہی صنفی تقسیم کر لیتے ہیں۔ یہ رواج لاہور میں عروج پہ ہے۔ مرد زنخے بنتے چلے جا رہے ہیں، عورتوں میں نسوانیت کی جگہ مردانہ پن آتا چلا جا رہا ہے۔ میرے ایل ایل ایم کا مقالہ ٹرانس جینڈر ایکٹ پہ تھا، یعنی ٹرانس جینڈر ایکٹ کیسے شریعت و فطرت کے خلاف ہے، اس پہ کچھ لوگوں کو مجھ سے بھرپور اختلاف بھی ہے۔ بہرحال وہ اپنی ضد پہ قائم میں اپنے موقف پہ۔ اللہ نے جسے جیسا تخلیق کیا ہے وہ اپنی تخلیق پہ شکر گزار ہونے اور اسے اپنانے کی بجائے ناجانے کس نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوئے جا رہا ہے۔
بہرحال بات یہ ہو رہی تھی کہ آئندہ سالوں میں مردوں کا عالمی دن بھی منایا جائے گا، اس کی بہت سی وجوہات میں سے دو تو یہ ہیں کہ کچھ تو ٹرانس جینڈر بنتے جا رہے ہیں، باقی ماندہ لڑکے ہوتے ہوئے بھی نازک مزاج ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تو پھر مردوں کی یاد میں مردوں کا عالمی دن منایا جائے گا کہ کبھی اس دنیا میں مرد بھی ہوا کرتے تھے، جو اب نایاب ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ سالوں میں عورتوں کی خصوصیات کیا ہوں گی، مگر وہ تو بالکل نہیں ہوں گی جو ہماری ماؤں کی تھیں، حتی کہ جو عادات و خصائل میلینلز میں ہیں، وہ جنریشن زی اور ایلفا میں بھی نہیں۔ عورت مارچ اس سال نہیں ہوا، آئندہ بھی ناپید ہو جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آئندہ نسلوں میں عورت میں نسوانیت و کمزوری بھی ناپید ہو جائے گی۔ جو کشش، جو رتبہ فطرت نے عورت میں رکھا تھا، اسے ہم نے کھرچ کھرچ کر مٹا دیا ہے۔ عورت کو مضبوط اور خود کفیل بناتے بناتے معاشرے و اقدار و حالات و زمانے نے عورت کو عورت کم مرد زیادہ بنا دیا ہے۔ کیونکہ مرد وقت کے ساتھ ساتھ نسوانیت اوڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایسے میں عورتوں کی نسوانیت کی یاد میں "خواتین کا عالمی دن مبارک ہو" ویسے میرے حساب سے تو نسوانیت کا عالمی دن منایا جانا زیادہ اہم ہو گا کہ اسے اس کی مقام و مرتبے پہ واپس لانے کے لیے مرد معاشرے اور خود عورتوں کو بھی سعی کرنا ہو گی۔ کیونکہ جو بار ذمہ داری آج ڈالا جا چکا ہے، وہ عورتوں کے لیے نہیں تھا۔ اس سب میں ہماری نسوانیت کہیں کھو گئی ہے۔