کلائنٹس بریف ڈائری
کلائنٹس بریف ڈائری
تحریر: Adv Misbah Akram Rana
میرے ہم عمر اور نوجوان وکلاء متوجہ ہوں۔ ہمارے پاس کئی مرتبہ ایسے مؤکلین بھی آجاتے ہیں جو اکثر مقدمہ دائر کروانے کے بعد اپنے ہی مؤقف سے پھر جاتے ہیں۔ مؤکلین الزام تراشی کرتے ہیں، بد تمیزی کرتے ہیں، اکثر فیس بھی نہیں دیتے اور پھر کوئی نیا وکیل کر کے آپ کے بارے میں غلط بات پھیلاتے ہیں۔ ایسی صورتحال سے ہم سبھی کو کبھی نہ کبھی ضرور دوچار ہونا پڑتا ہے۔ میرے نزدیک یہ خواہ مخواہ کی پریشانی تھی، لہذا کلائنٹ بریف پہ دستخط کروانے کی ترکیب سوجھی۔ پھر میں نے ایک ڈائری بھی الگ سے رکھ لی، تاکہ باقاعدہ ریکارڈ رہے۔
آج پھر ایک نئی ڈائری کلائنٹ بریفس کے لیے مختص کر دی ہے۔ ابھی تک اتنی شدید ضرورت محسوس تو نہیں ہوئی لیکن احتیاط ضروری ہے۔ بطور وکیل ہماری اچھی پہچان ہمارا اثاثہ ہے، اپنی ساکھ کو متاثر ہونے نہ دیں اس لیے ریکارڈ سنبھال کے رکھیں۔ ایک کلائنٹ بریف ڈائری رکھیں، جو بھی کلائنٹ آئے، کیس کے مندرجات و حقائق جس طور سے بیان کرے اور جس بھی طریقے سے معاملات کو آگے بڑھانا طے پا جائے، تحریر کر لیجئیے۔
یقین مانیئے کلائنٹ آپ کو خواہ مخواہ پریشان بھی نہیں کرے گا اور کچھ بھی کہتے کرتے ہوئے اسے یہ یاد رہے گا کہ وکیل صاحب نے تمام باتیں نوٹ کر رکھی ہیں، میں اپنی زبان سے پھر نہیں سکتا۔ یہ ڈائری ایک اچھا خاصا ثبوت ہوتی ہے۔