بڑھوتری
بڑھوتری
تحریر: Adv Misbah Akram Rana
زندگی میں کچھ دن بھاری بھی آتے ہیں، سانس لو تو دم گھٹتا ہے، مرنے کو جی چاہتا ہے مگر موت آتی نہیں۔ اس دوران فرار صرف موت کی صورت ہی ممکن معلوم ہوتاہے۔ یوں لگتا ہے جیسے حالات کی مٹی سانس روکتی چلی جا رہی ہے، دم گھوٹے چلی جا رہی ہے لیکن دل ہے کہ دھڑکے جا رہا ہے، تکلیف ہے کہ بڑھتی ہی جا رہی ہےاور جان ہے کہ نکلتی نہیں روح ہے کہ جسم کے پنجرے میں پھڑپھڑائے جا رہی ہے۔
سنو میاں جب تمہارا دم بہت گھٹنے لگے تو پریشان مت ہونا، بیج بھی مٹی تلے یہی محسوس کرتا ہے اور پھر پھٹ کر باہر نکلتا ہے۔ مٹی سے سر نکالتا ہے اور پھر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ یہی بڑھوتری کا عمل ہے جو قدرت نے ہمیں سکھایا ہے اس لیے شکر ادا کرتے رہنا۔ مٹی میں دب جاو، سانس گھٹنے دو، پھٹنے دو خود کو، اگنے دو،ننھے پودے سے سایہ دار پیڑ تک کی بڑھوتری یونہی ممکن نہیں ہوا کرتی۔