اسلام آباد اور پنجاب کے شہریوں کے لیے عملی گائیڈ: ریٹ لسٹ غائب، من مانی قیمتیں
اسلام آباد اور پنجاب کے شہریوں کے لیے عملی گائیڈ
تحریر: Omer Farooq
ریٹ لسٹ غائب، من مانی قیمتیں
اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز اور پنجاب کے بڑے شہروں میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ پھل اور سبزی فروش نہ سرکاری ریٹ لسٹ لگاتے ہیں، نہ ہی پوچھنے پر دکھاتے ہیں، اور اپنی من مرضی کے ریٹ پر چیزیں بیچتے ہیں، خاص طور پر رمضان میں۔ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں رمضان کے دنوں میں بہت سے دکاندار روزانہ جاری ہونے والی سرکاری ریٹ لسٹوں کو نظر انداز کر کے تین تین گنا مہنگے داموں فروٹ اور سبزیاں بیچتے ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ کو بار بار چھاپے مارنے پڑتے ہیں۔
یہ صورتحال صرف اسلام آباد نہیں، دیگر بڑے شہروں، خصوصاً پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں بھی عام ہے، جہاں سرکاری ریٹ لسٹیں موجود ہونے کے باوجود بازاری نرخ آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں، خاص طور پر رمضان کے مہینے میں۔
قانون کیا کہتا ہے؟
1) ریٹ لسٹ نہ لگانا اور زیادہ قیمت لینا “جرم” ہے
وفاقی سطح پر Price Control and Prevention of Profiteering and Hoarding Act 1977 کے تحت ضروری اشیاء کو سرکاری نرخ سے اوپر بیچنا، ذخیرہ اندوزی اور ریٹ لسٹ نہ دکھانا قابلِ سزا جرم ہے۔ مختلف صوبوں نے اسی ایکٹ کے تحت اپنی ترمیمات اور قوانین بنائے ہیں، مثلاً سندھ نے 2023 میں ترمیم کر کے ریٹ لسٹ نہ لگانے اور زیادہ قیمت لینے پر جرمانے ہزاروں سے بڑھا کر لاکھوں تک کر دیے، اور افسروں کو بغیر وارنٹ چھاپہ مارنے اور سامان ضبط کرنے کے اختیارات دیے۔
پنجاب کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ میں بھی دکاندار کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی دکان میں قیمتوں کی فہرست نمایاں جگہ پر آویزاں کرے، تاکہ صارف کو معلوم ہو کہ سرکاری اور دکان کی طے شدہ قیمت کیا ہے۔ اس اصول کا اطلاق پھل، سبزی اور روزمرہ اشیاء پر بھی ہوتا ہے، خاص طور پر جب سرکاری نرخ نامہ جاری ہو۔
2) انتظامیہ کے اختیارات
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنرز کو “پرائس کنٹرول مجسٹریٹ” کے اختیارات حاصل ہیں، جو اچانک چھاپے مار کر ریٹ لسٹ چیک کرتے، غیر قانونی نرخ پر بیچنے والوں پر جرمانہ، گرفتاری یا دکان سیل کرنے تک کے اقدامات کر سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں رمضان کے دوران درجنوں دکانیں سیل، درجنوں گرفتاریاں اور لاکھوں روپے کے جرمانے صرف اس بنیاد پر کیے گئے کہ دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ سے اوپر بیچ رہے تھے یا لسٹ لگا ہی نہیں رہے تھے۔
اسی طرح کراچی اور سندھ میں بھی رمضان کے دوران درجنوں افسران کو مجسٹریل پاورز دے کر من مانی قیمتوں اور ریٹ لسٹ نہ لگانے پر کڑی کارروائی کا اختیار دیا گیا، اور ریٹ لسٹ نہ دکھانے پر بھی الگ جرمانہ رکھا گیا۔
عام شہری کیا کر سکتا ہے؟
1) سب سے پہلے: ریٹ لسٹ مانگیں اور دیکھیں
جب بھی پھل یا سبزی لینے جائیں، دکاندار سے سرکاری ریٹ لسٹ کے بارے میں سوال کریں۔ اگر ریٹ لسٹ لگی ہوئی نہیں تو اس سے پوچھیں کہ “اسلام آباد/پنجاب کی آج کی سرکاری فہرست کہاں ہے؟” – اکثر جگہوں پر مارکیٹ کمیٹی یا ضلعی انتظامیہ روزانہ لسٹ جاری کرتی ہے۔
اگر وہ کہے “کوئی ریٹ لسٹ نہیں آئی” تو یہ بہانہ قابلِ قبول نہیں، کیونکہ رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں سبزی منڈی اور مارکیٹ کمیٹی روزانہ سرکاری نرخ نامہ جاری کرتی ہے جسے دکانداروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ پہلا مرحلہ خود عوامی پریشر بنانے کا ہے – ریٹ لسٹ کے مطالبے سے ہی بہت سے دکاندار محتاط ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگ باخبر ہیں۔
2) من مانی قیمت پر لینے کی بجائے شکایت کریں
اگر دکاندار ریٹ لسٹ دکھانے سے انکار کرے، یا واضح طور پر سرکاری نرخ سے اوپر بیچ رہا ہو، تو آپ کے پاس چند آپشنز ہیں:
- ہلکی سی نرم وارننگ – مؤدبانہ انداز میں بتائیں کہ آپ ضلعی انتظامیہ یا ہیلپ لائن پر شکایت کر سکتے ہیں، اور اگر وہ ریٹ کم کرے تو بہتر، ورنہ آپ دوسری دکان سے لیں گے۔
- دکان کا نام، سٹال نمبر، جگہ اور تاریخ لکھ لیں – مستقبل کی شکایت کے لیے کم از کم یہ معلومات ہوں۔
- بل / رسید اگر ممکن ہو تو لیں – ہر جگہ نہیں ملتی، لیکن اگر مل جائے تو بہترین ثبوت ہے۔
اسلام آباد میں کہاں شکایت کریں؟
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے بار بار اعلان کیا ہے کہ شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کے لیے ہیلپ لائن اور واٹس ایپ نمبرز رمضان بازاروں اور عام مارکیٹوں میں نمایاں جگہ پر آویزاں کیے جائیں، اور انہی پر اوورچارجنگ کی اطلاع دی جائے۔ ضلعی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہریوں کی فون شکایات کی بنیاد پر ہی درجنوں دکانوں پر چھاپے مارے گئے، 100 سے زائد دکاندار گرفتار ہوئے اور لاکھوں کے جرمانے کیے گئے۔
ساتھ ہی، اسلام آباد کی ICT ایڈمنسٹریشن نے اپنی ویب سائٹ پر “File a Complaint” کے نام سے باقاعدہ آن لائن کمپلینٹ فارم بھی رکھا ہوا ہے، جس کے ذریعے آپ اوورچارجنگ، ریٹ لسٹ کی عدم نمائش اور ناجائز منافع خوری کے خلاف درخواست جمع کر سکتے ہیں۔
عملی طریقہ:
- موبائل سے اسٹال/دکان کی فوٹو (اگر ممکن ہو تو ریٹ لسٹ نہ لگنے کی بھی) لیں۔
- دکاندار کے سٹال یا دکان کا نام، تاریخ اور تقریباً وقت نوٹ کریں۔
- ICT کی ہیلپ لائن/واٹس ایپ (جو رمضان بازاروں میں لگے بینر پر دی جاتی ہے) پر میسج/کال کر کے مختصر شکایت کریں۔
- ساتھ ہی ICT کی ویب سائٹ پر فارمز کے ذریعے تحریری شکایت درج کریں اور سکرین شاٹ سنبھال لیں۔
صوبوں اور بڑے شہروں میں کیا کیا جائے؟
سندھ، کراچی وغیرہ میں صوبائی قوانین کے تحت ریٹ لسٹ نہ لگانے اور سرکاری نرخ سے اوپر بیچنے پر الگ جرمانہ اور سزا رکھی گئی ہے، اور شہریوں کے لیے مختلف ہیلپ لائنز (جیسے کراچی میں “135” وغیرہ) قائم کی گئی تھیں تاکہ اوورچارجنگ پر فوری اطلاع دی جا سکے۔
پنجاب اور دیگر صوبوں میں بھی ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس رمضان اور عام دنوں میں بازاروں کے چھاپوں کے ذریعے ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی پر جرمانے اور گرفتاری کرتے ہیں، اگرچہ نفری کم ہونے اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے عمل درآمد ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔
بطور شہری آپ کا کام ہے کہ ریٹ لسٹ مانگیں، انفارمیشن لیں کہ آپ کے شہر میں کون سی ہیلپ لائن یا کنٹرول روم نمبر ہے، اور جہاں ممکن ہو تحریری یا آن لائن شکایت کریں، نہ کہ بس دل میں غصہ لے کر گھر آ جائیں۔
عوام میں آگاہی کیسے پیدا کی جائے؟
آپ نے درست کہا کہ “امیر تو سوال نہیں کرتا، غریب پس جاتا ہے” – اسی لیے Awareness اور Social Pressure بہت اہم ہے۔
کچھ عملی آئیڈیاز:
مقامی سطح پر چھوٹی مہمات
- اپنے محلے کے واٹس ایپ گروپ میں روزانہ کی سرکاری ریٹ لسٹ شیئر کریں تاکہ لوگوں کو اصل قیمت پتا ہو۔
- مسجد کے باہر یا یونین/کمیونٹی سینٹر میں ایک سادہ پرنٹ شدہ ریٹ لسٹ لگا دی جائے، خاص طور پر رمضان میں، تاکہ سب کو معلوم رہے کہ کون سا دکاندار حد سے زیادہ لے رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور فوٹو ایویڈنس
- اگر کہیں دکان ریٹ لسٹ لگا کر صحیح دام لے رہی ہے، اس کی تصویریں اور نام مثبت مثال کے طور پر شیئر کریں – اچھے کو Highlight کریں تو باقی پر بھی دباؤ آتا ہے۔
- جہاں اوورچارجنگ ہو، وہاں دکان کا نام اور جگہ لکھ کر فیکٹس کے ساتھ پوسٹ کریں (بغیر گالی کے) اور ساتھ ہی لکھیں کہ آپ نے کس ہیلپ لائن یا دفتر میں شکایت کی ہے – اس سے دوسروں کو بھی حوصلہ ملے گا۔
مدرسوں، مساجد اور مقامی علمائے کرام کا کردار
رمضان میں خاص طور پر امام حضرات اگر خطبوں میں اس بات پر زور دیں کہ ناجائز منافع خوری، ریٹ لسٹ چھپانا اور غریب سے دوگنی قیمت لینا دینی و اخلاقی لحاظ سے بھی غلط ہے، تو دکانداروں پر ایک مذہبی و سماجی دباؤ بھی بنتا ہے۔
نتیجہ: مہنگائی کے خلاف قانون اور شعور دونوں ضروری
گرانی خور دکانداروں کے خلاف صرف غصہ کافی نہیں، ایک طرف قانون موجود ہے جو ریٹ لسٹ نہ لگانے اور سرکاری نرخ سے اوپر بیچنے والوں پر جرمانہ، گرفتاری اور دکان سیل تک کی اجازت دیتا ہے؛ دوسری طرف عوامی شعور اور اجتماعی رویہ ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ یہ قانون چلتا بھی ہے یا نہیں۔
اگر ہم ہر خریداری پر ریٹ لسٹ مانگیں، من مانی قیمت قبول کرنے سے انکار کریں، اوورچارجنگ اور ریٹ لسٹ نہ لگانے پر باقاعدہ شکایت کریں، تو آہستہ آہستہ وہ ماحول بنے گا جس میں دکاندار کو لگے کہ “بس یہ غریب خاموش نہیں، باخبر شہری ہے” – اور یہی پہلا قدم ہے کہ غریب کم از کم شعور اور قانون کی طاقت سے اپنے لیے کچھ ریلیف نکال سکے۔