← Back to Blog
Love illustration for Urdu blog post

محبت اور جنگ

محبت اور جنگ

تحریر: Adv Misbah Akram Rana

تاریخ: 4 مارچ 2026

فروری جو محبت کا مہینہ تھا اب جنگ و جدل کا بن چکا ہے۔ اس سال فروری میں سردی ختم ہوئی، بہار آئی، ویلنٹائنز ڈے پہ ہی اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات ہوئے، انتخابات کے بعد گالم گلوچ، الزام تراشی اور ایک لا متناہی بدتمیزی کا دور شروع ہو گیا۔ ہم بہت سے افراد کو معمر گردانتے ہیں مگر انہیں بھی کیچڑ میں لت پت ہوتے دیکھا تو بے حد افسوس ہوا۔ کچھ عرصہ قبل کسی جونئیر وکیل نے کسی سینئر وکیل سے بدتمیزی کی، مجھ تک یہ خبر پہنچی، سن کر افسوس ہوا اور موجودہ کابینہ سے گزارش کی اس بار جو طلباء طالبات بار ووکیشنل ٹریننگ کر کے وکالت کا لائسنس لیں انہیں نا صرف ویلکم پارٹی دی جائے بلکہ انہیں ایک چھوٹا سا لیکچر بھی دیا جائے کہ سینییرز کا احترام کریں۔ یعنی حفظ مراتب کا خیال رکھیں، اگرچہ یہ سینئیر جونیئرز سبھی پہ لاگو ہوتی ہے۔ ہماری خواہش تھی کہ بار کے معزز وکلاء کو بلایا جائے گا، تاکہ نئے آنے والوں کو علم ہو کہ یہاں کس قد کاٹھ کے لوگ موجود ہیں، اور ہمیں سب سے احترام کا تعلق رکھنا ہے۔

Aneeq Khatana صاحب چونکہ ان معاملات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں لہذا اس خواہش کا اظہار ان سے بھی کیا، وہ معترض ہوئے اور کہنے لگے کہ مضائقہ تو نہیں لیکن پہلے ہی بار ووکیشنل ٹریننگ سیشنز میں لیگل ایتھکس کا لیکچر ہوتا ہے وہاں یہ معلومات بہم پہنچا دی جاتی ہیں، بہر کیف وہ پھر بھی آمادہ تھے کہ نوجوانوں سے مکالمہ ضرور ہو۔ انیق کھٹانہ صاحب اپنے طور سے بہت سے نوجوانوں کی تربیت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں اور بہترین و عملی موضوعات پہ بات چیت کرتے رہتے ہیں. ان کے اور ان جیسے تمام وکلاء کے پیش نظر صرف وکیل اور وکالت کی بہتری ہی ہے۔

خیر الیکشن کے بعد جو صورتحال ہوئی اسے دیکھ پڑھ کر ہمیں خاصی مایوسی ہوئی، کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ خیر سے فروری کچھ آگے بڑھا تو بین الاقوامی سطح پہ جنگیں شروع ہو گئیں، پاکستان و افغانستان آپس میں دست و گریباں ہے تو امریکہ و اسرائیل، ایران پہ چڑھ دوڑے۔ امت کے اتحاد کی واحد علامت امام خمینی کی شہادت نے امت مسلمہ کو ہلا کے رکھ دیا۔ اگر کسی کو یہ شک و زعم ہے کہ وہ محض شیعوں کے امام تھے، تو یہ بہت ہی زیادتی کی بات ہے، حکومتوں اور چند شیاطین کو پرے رکھ دیجئیے، باقی تمام عالم اسلام کو ان سے عقیدت تھی۔ کیا شیعہ کیا سنی، سبھی حضرت امام سے محبت کرتے تھے اسی لیے ان کی شہادت سے بہت سی آنکھیں بھیگ گئیں۔

جن کی آنکھوں میں نمی نہیں آئی وہ یقیناً حضرت امام کے رتبے و مقام سے ناواقف تھے، ورنہ جو نظر جانتی ہے، بھیگ جاتی ہے، ہر دھڑکتا دل اس سانحہ عظیم پہ گرفتہ ہے، کیا نورانی صورت تھی، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثوں میں سے تھے، اسی خاندان سے تھے۔ میں اکثر ان کا چہرہ دیکھتی، ان کی آواز سنتی ان کی بات سنتی، ان کا طریق دیکھتی، تو سوچتی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا شخصیت ہوں گے۔ وہ کتنے جمیل ہوں گے۔ اگرچہ یہ بھی بے ادبی ہے کہ ان کے چہرے کا تصور کروں، اللہ مجھے اس جسارت پہ معاف کرے۔ بس یونہی بھٹکتا ہوا اک خیال آ جاتا۔ پھر کربلا کی یاد آئی، واللہ جس روز شہادت ہوئی ہے، دل یونہی مغموم تھا جیسے محرم میں ہوا کرتا ہے۔

ابھی ہم اسی غم میں تھے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن ہوئے، نتائج کے بعد وہاں بھی چیخم دھاڑم، گالی گلوچ، مکم مکا، تمام وکلاء ہوئے۔ پھر ایک ویڈیو منظر عام ہوئی جس میں دو وکیل آپس میں یوں لڑ رہے تھے کہ بس ابھی اک دوجے کو نیچے گرا دیں گے۔ میں واقعے میں جنس کی تفریق نہیں کروں گی، دونوں وکیل تھے دونوں بد تمیز تھے۔ مجھے حیرانی ہے کہ بار کونسل ایسے ایسوں کی لائسنس کینسل کیوں نہیں کرتی۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون وکیل نے کسی مقدمہ کے سلسلے میں پبلک میسج دیا تھا، اس پہ بہت سوں نے " لیگل ایتھکس" اور پتہ نہیں کس کس بات کے ڈوب جانے کے بھاشن دئیے تھے میری وال اور انباکس میں، ایک صاحب تو مصر تھے کہ ان محترمہ کا لائسنس ہی کینسل کر دیا جانا چاہئیے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے معاملات ہمارے سامنے سے گزرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرکت لیگل پریکٹیشنرز ایکٹ اینڈ رولز کی خلاف ورزی ہے، کی مرتبہ مختلف انواع کے بار کونسل کے نوٹیفکیشنز بھی پڑھے ہیں۔ مثلا جو لوگ ٹک ٹاک بناتے ہیں یا سوشل میڈیا پہ کسی طرح سے ویڈیوز بنا کے شئیر کرتے ہیں ان کے خلاف فورا بار کونسل کی طرف سے نوٹیفکیشن آ جاتا ہے۔

میں یہ نہیں کہہ رہی کہ بار ان سب معاملات پہ ایکشن لینا چھوڑ دے، میں صرف یہ کہتی ہوں کہ جب اس قسم کے تماشے لگتے ہیں تب بار کونسل کہاں چلی جاتی ہے؟ کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ حالیہ الیکشنز کے بعد، چاہے وہ اسلام آباد کے تھے یا لاہور کے، یہ جو طوفان بدتمیزی سوشل میڈیا پہ چل رہا ہے، اس سے ہم وکلاء کی ساکھ کا قدر متاثر ہو رہی ہے۔

دیکھئیے جن لوگوں کے تو خاندان کے خاندان کالے کوٹوں والے ہیں، انہیں شاید فرق نہیں پڑتا مگر فرسٹ جنریشن لائر، اور خاندان پہلے اور واحد وکلاء پہ بہت برا اثر پڑتا ہے۔ اس قسم کی ویڈیوز پورا خاندان ہمیں بھیجتا ہے، کہ دیکھئیے یہ حالت ہے آپ لوگوں کی، جنہیں دیکھ کے شرم آتی ہے۔ اب یہاں کوئی یہ نوٹیفکیشن تو چلا نہیں سکتا کہ کچھ نامعلوم افراد وکلاء کے بھیس میں کچہری داخل ہو گئے تھے اور انہوں نے یہ مار پیٹ کی، وکلاء تو بہت معزز ہیں، وہ یہ حرکتیں نہیں کرتے۔

خدارا بار کونسل آن واقعات کا ایکشن لے یا نہ لے لیکن وکلاء کے لیے روزگار کے اچھے مواقع فراہم کرے تاکہ ان کے پاس کسی سے کسی کے لیے بھی یوں ہاتھا پائی کرنے کا وقت نہ ہو، ان کے پاس کرنے کو کام ہو، وہ اپنا وقت, انرجی اور دماغ اچھی اور مفید سرگرمیوں میں لگا سکیں۔ جب وکیل کے پاس کرنے کو کام ہو، فیس مل رہی ہو، روزانہ کی بنیاد پہ مصروفیت ہو گی تو وہ اس قسم کی دھینگا مشتی کا حصہ نہیں بنے گا۔ مزید یہ کہ اپنے رولز ریوائز کیجئیے، نوجوانوں کے ساتھ ساتھ معمر وکلاء کی بھی تربیت کریں، بہت بار دیکھا ہے کہ بہت سے سینئیر وکلاء نے (معذرت کے ساتھ) نوجوان وکلاء کی فوج صرف اس لیے رکھی ہوتی ہے کہ وقت آنے پہ وہ ان کے لیے ووٹ مانگیں، نعرے لگائیں اور ضرورت پڑنے پہ گالم گلوچ بھی کریں۔ کیونکہ جب وہ یہ سب کر رہے ہوتے ہیں تو وہ سینییرز اپنے جونیئرز کو بالکل منع نہیں کرتے، بلکہ انہیں بڑھاوا دیتے ہیں۔ بہت سے وکیل اپنے لیڈر کی محبت میں یہ سب کرتے ہیں تو بہت سے دوسرے کی نفرت میں یہ کرتے ہیں۔ پھر یہ بڑھاوا ، محبت و نفرت کا یوں بے لگام اظہار، ان کی شخصیت میں رچ بس جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہمات اور بعد از نتائج میں بد تمیزی اپنے عروج پہ ہوتی ہے۔

مختصراً یہ کہ معاشرے کا یہ پڑھا لکھا طبقہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ براہ کرم اس کی بہتری کے لیے تمام بزرگ سنجیدگی سے عملی اقدامات کریں، جس کا بہترین حل یہ ہے کہ انہیں کام کرنے اور معاشی حالت بہتر کرنے کا مواقع فراہم کریں۔ کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوا کرتا ہے۔ مانا کہ زمانہ کہتا ہے محبت اور جنگ میں سبھی جائز ہے لیکن جب سبھی کچھ جائز کر لیا جائے تو نتیجہ بربادی و تنزلی ہی نکلتا ہے۔